ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہاتھرس معاملے میں سماعت ٹلی، اتر پردیش حکومت سے کچھ نقطوں پر سوال

ہاتھرس معاملے میں سماعت ٹلی، اتر پردیش حکومت سے کچھ نقطوں پر سوال

Tue, 06 Oct 2020 21:24:08    S.O. News Service

نئی دہلی،6؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے اترپردیش کے ہاتھرس میں مبینہ اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملے میں ریاستی حکومت کو کچھ نقائط پر حلف نامہ دائر کرنے کی منگل کو ہدایت دی ہے اور سماعت ایک ہفتے کے لئے ٹال دی۔

چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے کی صدارت والی بنچ نے ریاستی حکومت سے حلف نامہ دے کر یہ بتانے کو کہا کہ وہ معاملے کے گواہوں کی حفاظت کے لئے کیا قدم اٹھا رہی ہے اور کیا متاثرہ کے کنبے نے کوئی وکیل منتخب کیا ہے؟ جسٹس بوبڑے نے کہا کہ وہ یقینی بنائیں گے کہ ہاتھرس معاملے کی جانچ صحیح طریقے سے چلے۔

عرضی گزار کی جانب سے پیش وکیل اندرا جے سنگھ نے دلیل دی کہ متاثرہ کا کنبہ سی بی آئی جانچ کی ریاستی حکومت کی سفارش سے مطمئین نہیں ہے، وہ خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) سے ہی جانچ چاہتا ہے، جس کی نگرانی عدالت خود کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں عرضی گزاروں کا ’لوکس‘ ہے یا نہیں لیکن ابھی ہم صرف معاملے کی سماعت اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک دہلا دینے والا معاملہ ہے۔‘‘

خاتون وکیلوں کی جانب سے کیرتی سنگھ نے بھی کہا کہ یہ دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ اس پر جسٹس بوبڑے نے کہا کہ ’’ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ ہم بھی یہ مانتے ہیں تبھی آپ کو سن رہے ہیں۔ لیکن آپ الہ آباد ہائی کورٹ کیوں نہیں گئیں؟ معاملے کی سماعت پہلے ہائی کورٹ کیوں نہیں کرے، جو بحث یہاں ہوسکتی ہے، وہی ہائی کورٹ میں بھی ہوسکتی ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہائی کورٹ معاملے کی سماعت کرے؟‘‘

مختلف فریقوں کی دلیل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ اترپردیش حکومت حقائق پر جواب دے کہ کیا گواہوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کیے جا رہےہیں؟ اور کیا متاثرہ کے کنبے نے کوئی افرادی وکیل کیا ہے؟ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت اسے ہائی کورٹ میں حالات کے بارے میں مطلع کرائے۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ جمعرات کو تفصیلی حلف نامہ دائر کردیں گے۔ اس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ٹال دی۔


Share: